9 مارچ 2013 - 20:30

تقریباً دو دہائیوں کے انتظار کے بعد، پاکستان – ایران کے بارڈر پر دونوں ملکوں کے صدور 7.5 ارب ڈالر کی ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا کل افتتاح کریں گے۔

ابنا: ایران پاکستان ہندوستان گیس پائپ لائن کی شروعات 1994 میں ہوئی لیکن 2009 میں ہندوستان اس منصوبے سے الگ ہوگیا تاکہ امریکہ کے ساتھ سول جوہری معاہدہ کرسکے۔
اگر حالات مناسب رہے تو یہ منصوبہ پندرہ مہینوں میں ختم ہوجائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن ڈال لی ہے جبکہ 785 کلومیٹر لمبی پاکستان سیکشن کی پائپ لائن ڈالنا اب شروع ہوگی۔ پاکستان کا ایران سے اکیس اعشاریہ پانچ ملین کیوبک میٹر گیس روزانہ ایران سے درآمد کرنے کا منصوبہ ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کل کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا گیارہ مارچ کو افتتاح کروں گا۔انہوں نے ایک بارپھر امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو پاکستان کو درپیش مسائل کا ادراک ہونا چاہیئے، ہماری اولین ترجیح پاکستان اور ملک کا قومی مفاد ہے،پاکستان امن کے ساتھ اقتصادی ترقی کا خواہاں ہے۔

.......

/169